صحت مند زندگی کے لیے چہل قدمی کیجیے

یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ ضروری نہیں کہ اس مقصد کے حصول کی خاطر آپ روزانہ گھنٹوں سخت قسم کی ورزش کریں۔ ورزش کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین بڑی حد تک اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری صحت کے لیے یہ بات نہ ضروری ہے اور نہ ترجیحی کہ ہم سخت ورزش کریں یا جسمانی صحت کے کلبوں میں جا کر جان ماریں۔ ہو سکتا ہے کہ پابندی سے چہل قدمی کر لینا ہی ہمارے لیے بہترین ورزش ثابت ہو۔ جی ہاں! اگر آپ ہفتے میں پانچ دن آدھا آدھا گھنٹہ تیز چہل قدمی (ایک گھنٹے میں تین چار میل کی رفتار سے) کر لیں تو بہت مناسب ہو گا۔ 

ممکن ہے کہ فوری طور پر آپ کو اس کے مثبت اثرات محسوس نہ ہوں، لیکن طبی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ کچھ عرصے بعد پابندی سے پیدل چلنے یا واکنگ کے فوائد ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔ چہل قدمی کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ایک مکمل ورزش ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے بہت اچھی اور محفوظ ورزش ہے جو اس میدان میں نئے ہیں۔ بیشتر افراد کے لیے پیدل چلنا گھنٹوں کی دوڑ کی نسبت زیادہ اچھی ورزش ہے اور اس کے منفی ذیلی اثرات بھی نہیں ہوتے۔ بعض حالیہ تحقیقی مطالعوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ لگاتار آدھا گھنٹہ واک کرنے کے بجائے اگر دن میں 3، 4 بار یا 10 ،10 منٹ تیز چلا جائے تو کم و بیش یکساں فائدہ ہوتا ہے۔ 

آئیے اب ان فوائد پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو چہل قدمی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ 

٭ تیز چلنے سے دل کو فائدہ پہنچتا ہے۔ دل کو قوی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں سے خون کی روانی تیز اور درست رفتار سے ہو، پیدل چلنے کے ذریعے یہ کام بخوبی ہوتا ہے۔ پابندی سے واک کی جائے تو فشار خون میں کمی ہوتی ہے اور اس طرح شریانوں پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ واک سے خون میں مفیدِ صحت کولیسٹرول (HDL) کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ اس سے خون میں چپچپاہٹ کم ہوتی ہے اور خون کے لوتھڑے بننے کا امکان کم ہوتا ہے۔ ان سب عوامل کو یکجا کر لیا جائے تو دل کے دورے کا خطرہ نصف ہو سکتا ہے۔ 

٭ 2 تحقیقی مطالعوں سے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ طرزِ زندگی میں تبدیلی پیدا کر کے زیادہ وزن والے لوگ قسم دوم کی ذیابیطس کو مؤخر کر سکتے ہیں یا روک سکتے ہیں۔ طرزِ زندگی کی ان تبدیلیوں میں روزانہ آدھے گھنٹے کی تیز چہل قدمی اہم ہے۔ 

٭ دونوں جائزوں سے اندازہ ہوا کہ جن لوگوں نے ابتدا ہی میں 5 فیصد وزن کم کر لیا، انہیں سب سے زیادہ فائدہ ہوا، لیکن ایک اور تحقیقی مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا وزن کم نہیں ہوا انہیں بھی واکنگ سے فائدہ ہوا۔ 

٭ امریکا میں ہونے والی ایک طویل تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ جو لوگ ہفتے ہیں 6 سے زیادہ گھنٹے پابندی سے واک کرتے ہیں، ان میں خون کے لوتھڑے بننے سے فالج کا خطرہ 40 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ 

٭ وزن کو معمول کے مطابق رکھنا اس وقت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب انسان کی عمر بڑھ رہی ہو، کیونکہ اس صورت میں صرف غذائی احتیاط سے کام نہیں چلتا۔ اگر کم از کم آدھا گھنٹہ روزانہ تیز چہل قدمی کر لی جائے تو چند سو حرارے خرچ ہو جاتے ہیں اور انہضام کا نظام دن بھر درست رہتا ہے، جس سے وزن میں کمی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ 

٭ پیدل چلنے سے نہ صرف پٹھوں پر اچھا اثر پڑتا ہے بلکہ اس سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو خواتین بچپن اور جوانی میں پابندی سے ورزش کرتی رہیں اور مناسب مقدار میں کیلشیم کھاتی رہیں، ان میں آگے چل کر ہڈیوں کی بوسیدگی امکان کم ہو گیا۔ 

٭ چہل قدمی گھٹنوں اور جوڑوں کے گرد عضلات کو مضبوط بنا کر جوڑوں کے درد سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتی ہے۔ اگر نہانے کے تالاب میں چلا جائے تو بھی جوڑوں کے درد کو آرام آتا ہے۔ ہو سکتا ہے جوڑوں کے آرام کی خاطر مریضوں کو یہ مشورہ دیا جائے کہ وہ ایک دن چھوڑ کر ورزش کریں۔ 

٭ تجربوں کے بعد محققین کو معلوم ہوا ہے کہ تیز چہل قدمی سے یاسیت اور اضمحلال میں کمی ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ یاسیت سے نجات کی ادویہ سے مرض کو زیادہ تیزی سے فائدہ ہوتا ہے لیکن ایک تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ لمبے عرصے میں وہ مریض زیادہ فائدے میں رہے جنہوں نے ایسی ادویات کھانے کے بجائے ورزش کا سہارا لیا۔ اندازہ یہ لگایا گیا کہ دواؤں کے ذریعے صحت یاب ہونے والوں کا دوبارہ یاسیت میں مبتلا ہو جانے کا امکان ان سے زیادہ ہوتا ہے، جو دواؤں کے بجائے ورزش کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ چہل قدمی آپ کے ہر مرض کی دوا نہیں ہے اور نہ اس کا فوری فائدہ ہوتا ہے۔ 

ایک ماہر کے مطابق بعض لوگ جنہوں نے کبھی پابندی سے ورزش نہیں کی، یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چہل قدمی شروع کریں گے تو ہفتہ بھر میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگے گا۔ اس قدر جلدی تو نہیں، لیکن ہاں، اگر یہ ورزش پابندی سے جاری رہے اور پابندی سے روزانہ آدھا گھنٹہ چلا کریں تو دیرینہ امراض کا امکان 40 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ پیدل چلنے کے وقت ڈھیلا اور آرام دہ لباس اور جوتے پہنیں۔ جوتے ایسے ہوں کہ پیر کے انگوٹھوں پر دباؤ نہ پڑے اور ان کے لیے کافی جگہ ہو۔ اکثر یہ کوشش کریں کہ گاڑی یا موٹر سائیکل شاپنگ ایریا سے ذرا دور پارک کریں تاکہ آپ کو اس بہانے کچھ چلنے کا موقع مل جائے۔ لفٹ کے بجائے جس قدر ممکن ہو سیڑھیاں استعمال کریں۔

حسن ذکی کاظمی

جب غصہ بے قابو کر دے تو کیا کریں ؟

کیا آپ کو بہت غصہ آتا ہے؟ کیا آپ بعض اوقات غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں؟ کیا آپ کا بچہ غصے میں بپھرے ہوئے شیر کی طرح ہو جاتا ہے؟ کیا غصہ اسے بے قابو کر دیتا ہے کہ وہ کچھ بھی سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا! تو اس کا سامنا کریں کیونکہ غصہ تو کسی کو کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ غصہ عام انسانی جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان کا شعور اس کے دماغ سے ذہنی اور جذباتی دباؤ کو خارج کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ عام سا نفسیاتی عمل کسی کو اس حد تک بے قابو بھی کر دیتا ہے کہ اس پر پاگل پن کے دورے کا گمان ہونے لگتا ہے اور غصے کی یہ انتہائی شدت یقینا درست نہیں، نہ ہی صحت کے لیے اور نہ ہی اچھی شخصیت کے لیے۔

اگر آپ اس طرح کی صورت حال سے گزر رہے ہوں تو سمجھ لیں کہ آپ غصے کی بے پناہ شدت سے گزر رہے ہیں اور غصے نے آپ کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ یہ یقینا عام غصہ نہیں، کیونکہ عام غصے کی کیفیت عارضی ہوا کرتی ہے اور وہ غیر متعلقہ معاملات پر پریشانی کا باعث نہیں بنتی۔ بے قابو غصے کی کیفیت میں عموماً فرد خود کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاً تیز رفتار ڈرائیونگ، دوسروں سے لڑنا جھگڑنا، بے تحاشا سگریٹ پھونکنا، نشہ آور چیزوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ اس کے لیے سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ آپ اس فرق کو پہچانیے کہ آپ کس وقت عام جذباتی کیفیت میں ہیں اور کب انتہائی شدت کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

اکثر لوگ بہت معمولی باتوں کا بہت گہرا اثر لیتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی ایسے شخص سے کوئی معمولی غلطی ہو جائے جس کا آپ بہت خیال رکھتے ہیں یا کوئی آپ کی کسی عزیز ترین یا محبوب چیز کو استعمال کرے، غلطی سے توڑ بیٹھے اور یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ یہ بات فقط آپ کے لیے اہم ہے، دوسرے کے لیے نہیں، آپ یک دم غصے کی غیر معمولی اور شدید ترین کیفیت میں مبتلا ہو جائیں تو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ جب کبھی غصہ آئے تو ایک گہری سانس لیں اور فوری طور پر اس جگہ کو چھوڑ دیں جہاں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اور پھر دماغ کو پُرسکون کر کے خود سے پوچھیں میں کیوں اس قدر غصے میں ہوں؟

یہ سوال خود سے کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر لوگ اپنے غصے کا اظہار غلط کر جاتے ہیں، یعنی غصہ آنے کی وجہ کوئی اور ہوتی ہے اور غصہ نکل کسی اور بات پر جاتا ہے تو اپنی پریشانیوں کو پہچانیے اور اگر کوئی خاص چیز یا صورت حال آپ کو اس انتہائی کیفیت میں مبتلا کرتی ہے تو اس سے دور رہنے کی کوشش کریں تاکہ کچھ بہتر حل سوچ سکیں۔ کیونکہ زندگی میں دکھ سکھ تو آتے ہی رہتے ہیں۔ شاید زندگی کا حقیقی مزہ ہی انہیں دکھ سکھ میں ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اپنے وقت کی اچھی منصوبہ بندی کریں کیونکہ غصے کی کیفیت میں مبتلا ہونے کا ایک عام سا سبب عموماً وقت پر کام نہ کرنا یا وقت کی کمی ہے۔

آپ غور کریں کہ کیا اکثر ایسا تو نہیں ہوتا کہ جب کبھی آپ کوئی کام جلدی نمٹانا چاہتے ہوں اور ایسے میں کوئی آپ کو روک دے تو آپ کسی بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔ اس ضمن میں آسان طریقہ یہ ہے کہ بہت عقل مندی کے ساتھ اپنے وقت کی مناسب منصوبہ بندی کریں۔ روزانہ ورزش کریں۔ کہا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ورزش آپ کے اندر تناؤ کو کم کرنے میں کافی ممدو معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ ذہن اور جسم دونوں کو پُرسکون رکھتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں وہ زیادہ ٹھنڈے مزاج کے حامل ہوتے ہیں اور غـصے کی کیفیت میں بے قابو بھی نہیں ہوتے۔

آخری بات یہ ہے کہ جو بھی مسئلہ یا پریشانی ہو اس پر متعلقہ فرد سے بات کریں کیونکہ خاموش رہنے سے لاوا اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور پھر ایک دن کسی معمولی سی بات پر آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ بات چیت اور گفت و شنید سے مسئلے کا حل نکالا جائے اور خود کو غصے کی انتہائی کیفیت تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اسلام میں بھی غصے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آپ بھی اپنے غصے پر قابو پانا سیکھ لیں تاکہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ خود سے متعلق دیگر افراد کی زندگی میں بھی امن و سکون کی ضمانت بن سکیں۔ گھر جیسی چھوٹی سی جنت کو غصے کی گرم ہواؤں سے آلودہ کرنے کی بجائے امن و آشتی کی روشنی سے منور رکھیں کہ زندگی بڑی مختصر ہے اسے لڑتے جھگڑتے نہ گزاریں بلکہ ہنستے کھیلتے بسر کریں۔

رضوانہ کوثر

پریشانی یا گھبراہٹ سے بچانے والی غذائیں

ہم جو کچھ کھاتے ہیں اس کا ہمارے جسم پرہی نہیں بلکہ نفسیات پر بھی اثر ہوتاہے۔ بعض اوقات ٹھنڈے میٹھے آم کھا کر آپ کا موڈ اچھا ہو جاتا ہے اور کبھی انگور آپ کی طبیعت ہشاش بشاش کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کو ذہنی پریشانی یعنی انزائٹی ہے تو اس کے لیے چند غذائیں ہیں، جو اس کو دور کرنے میں مدد کرتی ہیں لیکن پہلے ہم انزائٹی کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ انزائٹی کو غیر یقینی کیفیت یا کچھ ناخوشگوار واقع ہونے کا ڈر کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں انزائٹی کے لیے بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ ہم سب مختلف وقتوں میں بے چینی کے تجربے سے گزرتے ہیں، جس سے ہمارا دماغ ہمیں خطرات یا مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے مگر بعض اوقات بے چینی نہایت شدید یا حد سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔ 

انزائٹی ایک نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کا نام ہے، جس سے بڑی عمر کے افراد کے علاوہ نوجوان بھی متاثر ہیں۔ دنیا بھر میں یہ مرض عام ہے۔ ایک نظرئیے کے مطابق یہ ڈیپریشن کی ہی قسم ہے، صرف اس کی چند ایک علامات مختلف ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیفیت میں مبتلا رہنے میں انسان کے اردگرد کا ماحول اور اس کی اپنی ذہنی صلاحیت کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ یہ کیفیت عمر کے کسی حصے میں بھی آشکار ہو سکتی ہے یعنی اوائل عمری سے ساٹھ ستر برس کے عرصے میں کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عموماً وہ بچے، جنہیں گھر میں نارمل ماحول میسر نہ آئے یا وہ کسی بھی خوف میں مبتلا رہے ہوں، ان میں انزائٹی کا مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔ اکثر والدین بچوں کو خوفزدہ رکھتے ہیں، جو کہ ایک غلط طرز عمل ہے۔ ایسا کرنے سے بچہ نہ صرف احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے بلکہ یہ خوف تاعمر اس کی شخصیت کو کمزور بنانے کا سبب بنتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ خوف شخصیت کا جزو بن جاتا ہے۔ جب بھی اسے زندگی میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو یہ مرض شدت اختیار کر لیتا ہے۔

انزائٹی کی صورت میں مریض مخمصے کا شکار ہوتا ہے، وہ بے چینی اور گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔ دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے اور رنگت بھی پیلی محسوس ہوتی ہے، مریض کو انجانا سا خوف اور خدشات گھیر لیتے ہیں۔ اکثر اوقات انزائٹی کی وجہ سے سر میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے، اس کے علاوہ دیگر کیفیات میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جانا، متلی کی کیفیت، کندھوں اور پٹھوں میں کھنچاؤ، جلن اور تیزابیت ہونا یا طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن آجانا شامل ہیں۔
علاوہ ازیں مریض منفی سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے اردگرد کا ماحول اور لوگ اجنبی محسوس ہوتے ہیں حتیٰ کہ مریض اپنے ہی گھر سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

عام شور اسے بُرا لگتا ہے اور وہ خود کو بیکار یا فالتو سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا کسی کام میں جی نہیں لگتا، اکثر سوتے میں ڈر جاتا ہے۔ رش والی جگہوں، اندھیرے اور بند کمرے سے خوف محسوس کرتا ہے۔ مریض پر ہوش کی بجائے جوش کی کیفیت نمودار ہو جاتی ہے۔ عموماً ایک حساس شخص کو انٹرویو کے دوران، جہاز میں سفر کرتے ہوئے، کسی انجانی اور بڑی کامیابی پر یا کسی خاص شخصیت سے ملاقات کرنے کی صورت میں انزائٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے بچے جن کے والدین میں ناچاقی زیادہ رہتی ہو، تنہا یا اکیلے رہنے والے افراد، ماں باپ کا بیجا لاڈ پیار یا بچے کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے، اپنے ہم عمر ساتھیوں سے ملنے جلنے سے روکنا یا لوگوں میں بچوں کو گھلنے ملنے نہ دینے کی صورت میں وہ انزائٹی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نےکچھ غذائوں کو تجویز کیاہے، جو انزائٹی دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔

انزائٹی سے بچانے والی غذائیں
چاکلیٹ
براؤن چاکلیٹ کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس سے بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ جسم میں موجود ’ پولی فینول ‘ کو بڑھاتی ہے، جو خون میں موجود آکسیجن کی روانی کو بڑھا دیتا ہے۔ چاکلیٹ کھانے سے ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ برائون چاکلیٹ دماغ میں ’ سیروٹونین ‘ پیدا کرتا ہے، جس سے انسان کے اندر تازگی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے اور انسان ذہنی دباؤسے آزاد ہو جاتا ہے۔

ایواکاڈو
ہسٹیریا ، ذہنی دبائو اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار لوگوں کو ایواکاڈو کا استعمال یقینی بنانا چاہئے ۔ ایوا کاڈو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے ، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے اور دوران خون کو مسلسل اعتدال میں رکھتا ہے۔

سبزیاں
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ روایتی ماہرین غذائیات روزانہ 5 مرتبہ خاص انداز میں پھل اور سبزیاں کھانے پر زور دیتے ہیں لیکن جب بات ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی ہو تو اس کے شکار افراد اپنی خوراک میں ان کا مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ کچی سبزیاں اور پھل براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سبزیوں کو پکانے، بھوننے اور گرم کرنے سے ان کے اندر کئی اہم غذائی اجزاء ضائع ہو سکتے ہیں۔

ہلدی
ذہنی تناؤ، اداسی اور ڈپریشن جدید دور کا ایک بڑھتا ہوا عفریت ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 500 ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے، جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح ہلدی ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔ دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوں کیلئے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

سویا بین
کسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتراور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔

فاروق احمد انصاری

دولت کے بغیر خوش باش زندگی گزارنے کا نسخہ

ایک عام خیال ہے کہ پیسہ زندگی کو آسان بنا سکتا ہے اور خوشی کا سبب ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں ایسی کیا شے ہے جو بغیر دولت کے بھی آپ کو دولت مندوں کے جتنا ہی خوش رکھ سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے علم ہوا کہ ورزش اور جسمانی سرگرمیاں کسی شخص کو دولت مند شخص کے برابر خوشی دے سکتی ہیں۔ یہ تحقیق آکسفورڈ اور ییل یونیورسٹی میں کی گئی جو “دا لینسٹ” نامی جریدے میں شائع ہوئی۔ تحقیق کیلئے 12 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا، ان افراد سے ان کی آمدنی اور جسمانی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ 

ان افراد سے پوچھا گیا کہ مجموعی طور پر یہ کن حالات میں اور کتنے عرصے تک خود کو پریشان اور ذہنی تناؤ میں مبتلا محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ جسمانی سرگرمیوں کے عادی افراد سال میں اوسطاً 35 دن خود کو پریشان محسوس کرتے ہیں، اس کے برعکس ایسے افراد جو جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے تھے ان کی پریشانی مزید 18 دن طول کھینچ گئی۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ زیادہ آمدنی والے یعنی مالی طور پر مطمئن افراد اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد میں خوشی کی سطح یکساں پائی گئی۔

تناؤ سے سر درد کی وجوہات اور علاج

سردرد کی تمام اقسام میں تناؤ یا پریشانی سے پیدا ہونے والا سردرد سب سے عام ہے۔ عموماً اس میں سر کے دونوں اطراف دُکھتے ہیں یا سر میں ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ گردن کے پٹھوں میں کھچاؤ اور آنکھ کے پیچھے دباؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ تناؤ سے پیدا شدہ سر درد بیشتر اوقات اتنا شدید نہیں ہوتا کہ روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثر کرے۔ تاہم یہ شدید ہو بھی سکتا ہے۔ یہ آدھے گھنٹے سے کئی گھنٹوں تک رہ سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کا دورانیہ کئی دنوں پر محیط ہو سکتا ہے۔

وجوہات: زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر زیادہ تر افراد کو تناؤ سے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ یہ کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتا ہے، لیکن عہدِ شباب اور بلوغت میں ابتدا کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مردوں کی نسبت یہ عورتوں میں زیادہ عام ہے۔ کچھ بالغ افراد کو مہینے میں 15 سے بھی زائد مرتبہ ہوتا ہے اور تین ماہ تک مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو اسے تناؤ سے ہونے والا دیرینہ سر درد کہتے ہیں۔

طبی امداد: اگر سردرد کبھی کبھار ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی بظاہر ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ہفتے میں متعدد بار سردرد ہو یا بہت شدید ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر سردرد، خاندانی پسِ منظر، خوراک اور طرزِ زندگی کے بارے میں پوچھ سکتا ہے تاکہ سردرد کی قسم کی تشخیص ہو سکے۔ سردرد کی مندرجہ ذیل صورتوں میں فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔

٭ اگر یہ اچانک ہو اور ایسا کہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔

٭ سر درد کے ساتھ گردن اکڑ جائے، متلی ہو، قے آئے یا گھبراہٹ ہو۔

٭ کسی حادثے، بالخصوص سر میں چوٹ لگنے کے ساتھ شروع ہو۔

٭ کمزوری، شل ہونے، جملوں کی غیر واضح ادائیگی یا گھبراہٹ کے ساتھ شروع ہو۔ ان علامات سے عندیہ ملتا ہے کہ کوئی زیادہ سنجیدہ مسئلہ درپیش ہے، جس کی تشخیص کے لیے مزید جانچ اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔

وجوہات: اس سر درد کا اصل سبب واضح نہیں، البتہ کچھ چیزیں اسے پیدا کر دیتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں؛ ذہنی دباؤ اور تشویش، بھینگا پن، بیٹھنے، لیٹنے یا کھڑے ہونے کا غلط انداز، تھکاوٹ، پانی کی کمی، کھانا نہ کھانا، جسمانی سرگرمی کی کمی، سورج کی تیز روشنی، شور، بعض خوشبوئیں۔

علاج: تناؤ سے پیدا ہونے والا سر درد بالعموم خطرناک نہیں ہوتا اور درد کم کرنے والی ادویات یا طرزِزندگی میں تبدیلی سے رفع ہو جاتا ہے۔ طرزِ زندگی میں ان تبدیلیوں سے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں؛ یوگا، مساج، ورزش، ٹھنڈے فلینَل کے کپڑے کو ماتھے پر یا گرم فلینَل کو گردن کے پیچھے لگانا۔ درد کم کرنے کی ادویات کو زیادہ عرصہ تک استعمال کرنے (10 دن یا اس سے زائد) سے بھی سر درد کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ آپ کا جسم ان ادویات کا عادی ہو جاتا ہے اور جب آپ انہیں چھوڑتے ہیں، سر میں درد ہونے لگتا ہے۔

بچاؤ: اگر آپ کو تناؤ سے سر درد کا مسئلہ مسلسل ہو رہا ہے تو ڈائری لکھنا شروع کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کب اور کیوں ہوتا ہے۔ آپ اپنی غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر اس پر قابو پانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ باقاعدہ ورزش اور تفریح ذہنی دباؤ اور تناؤ کو کم کرتے ہیں، جس سے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ اٹھتے، بیٹھتے اور سوتے ہوئے اپنا جسمانی انداز (پوسچر) درست رکھیں، جس قدر آرام کی ضرورت ہو اتنا کریں اور پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

محمد شاہد

خوشی کو متاثر کرنے والے عوامل کون سے ہیں

اعلیٰ تعلیم یافتہ، کم پڑھے لکھے اور ان پڑھ سبھی خوش ہو سکتے ہیں مگر عموماً جتنی تعلیم زیادہ ہو گی فرد کے خوش ہونے کا امکان اتنا زیادہ ہو گا۔ معمولی ذہانت کے لوگ بھی اتنے ہی خوش ہو سکتے ہیں جتنے ذہین ترین لوگ خوش ہوتے ہیں۔ خوش باش لوگ عموماً اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں مگر اچھی صحت بھی خوشی کی ضمانت نہیں۔ بعض لوگ بہت اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں مگر ناخوش ہوتے ہیں۔ فرد کا پیشہ خوشی کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اگر آپ کو اپنا کام پسند ہے تو آپ بہت خوش ہوں گے اور اگر ناپسند ہے تو خوشی میں کافی کمی ہو گی۔ فیملی لائف خوشی کو متاثر کرتی ہے۔ خوشگوار خانگی زندگی، زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتی ہے جبکہ ناخوشگوار گھریلو زندگی عذاب ہے۔ 

سماجی تعلقات خوشی کو مثبت طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں سے زیادہ تعلقات زیادہ خوش رکھتے ہیں۔ دوستی خوشی کو حیرت انگیز طور پر متاثر کرتی ہے۔ وہ لوگ جو خوش باش، زندہ دل اور مخلص دوست رکھتے ہیں، زیادہ خوش رہتے ہیں۔ نیکیاں فرد کی خوشی کو مثبت طور پر متاثر کرتی ہیں۔ یہ فرد کو خوشی اور سکون دیتی ہیں جبکہ گناہ اور احساس گناہ خوشی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ہماری سوچ خوشی کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہے۔ مثبت سوچ خوشی میں اضافہ کرتی ہے جبکہ منفی سوچ خوشی میں کمی لاتی ہے۔ مثبت سوچ کے بغیر آپ خوش نہیں رہ سکتے۔ 

طاقت خصوصاً سیاسی طاقت اور اختیار بھی خوشی کو مثبت طور پر متاثر کرتے ہیں۔ آرام اور بھرپور نیند خوشی میں معاون ہوتے ہیں۔ اپنے رب کی نعمتوں اور رحمتوں پر شکر گزاری خوشی کو مثبت طور پر متاثر کرتی ہے۔ عموماً ہم تب خوش ہوتے ہیں جب ہم ان چیزوں کو حاصل کر لیں جن کی ہمیں خواہش ہوتی ہے۔ مگر خوشی کی کلید یا کنجی یہ ہے کہ آپ ان چیزوں پر توجہ مرکوز کریں جو آپ کے پاس ہیں یا آپ جو کچھ کر سکتے ہیں نہ کہ ان چیزوں پر جو آپ کے پاس موجود نہیں یا جو آپ نہیں کر سکتے۔

ارشد جاوید

اچھی صحت کے بنیادی اصول

صحت مند رہنے کے لیے چند عادات اپنانا لازم ہے مکمل صحت چند بنیادی اصولوں کے اپنانے پر منحصر ہے۔ ان میں سب سے اہم صفائی ہے، جسم کی صفائی، کپڑوں کی صفائی اور گھر کی صفائی۔ یہ تمام چیزیں تندرستی کے لیے ضروری ہیں۔

غسل: سب سے پہلے جسمانی صفائی ہی کو لیجئے۔ غسل جسم کی صفائی کا بہترین طریقہ ہے جو ہر موسم میں فائدہ مند ہے۔ گرمیوں کے موسم میں روزانہ غسل ضروری ہے جبکہ موسم سرما میں ہفتہ میں دوبار غسل ضرور کرنا چاہیے۔ جوان اور صحت مند آدمی سرد (تازہ) پانی سے غسل کر سکتے ہیں جبکہ بچوں اور بوڑھوں کو ہلکے گرم پانی سے غسل کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل حالات میں غسل کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

 ۔ ورزش کے فوراً بعد یا پھر پہلے غسل نہ کیا جائے۔

 ۔ تھکا دینے والے کام کے فوراً بعد غسل نہ کیا جائے۔

 ۔ نہانے کے فوراً بعد صاف تولیہ سے جسم کو اچھی طرح خشک کرنا چاہیے۔

۴۔ ہلکے گرم پانی سے غسل ہر عمر اور مزاج کے لوگوں کے لیے، ہر موسم میں مفید ہے، کوشش کی جائے کہ نہانے کے دوران جسم مکمل طور پر رگڑا جائے، صابن کے استعمال سے میل کچیل اور غلاظت دور ہوتی ہے۔

منہ: جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ دانتوں کی صفائی بھی بہت ضروری ہے۔ عام طور پر دانتوں کی خرابی سے ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور مختلف بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مسواک دانتوں کی صفائی کا اچھا ذریعہ ہے۔ اس سے مسوڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ نیم یا ببول (کیکر) کی تازہ شاخوں یا پیلو کی جڑ کی مسواک بنائی جاتی ہے۔ دانتوں کے برش بھی عام ہیں۔ یہ دانتوں کی صفائی کرتے ہیں۔ لیکن سخت برش دانتوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ بعض لوگ منجن کا استعمال بغیر برش کے کرتے ہیں لیکن صرف منجن کے استعمال سے مکمل صفائی نہیں ہوتی کیونکہ دانتوں کے درمیان رہ جانے والے ذرات عموماً نہیں نکلتے جن کے لیے برش یا مسواک ضروری ہے۔ زبان کو صبح کے وقت اچھی طرح صاف کر لینا چاہیے۔ ناخن اور بال صاف رکھیں۔ ہرہفتے ناخن کاٹیں۔

لباس: گندے کپڑے صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ایسے کپڑے جو بدن سے متصل رہتے ہیں مثلاً بنیان وغیرہ، روزانہ تبدیل کرنے اور صابن سے دھونے چاہئیں۔ کپڑے ہر موسم میں زیادہ سے زیادہ تین دن بعد ضرور تبدیل کرنے چاہئیں۔

گھر: اس کے ساتھ ساتھ مکان کی صفائی بھی بہت ضروری ہے۔ موسم کے لحاظ سے کھڑکیاں دروازے اور روشندان کھلے رکھے جائیں تاکہ ہوا اور روشنی آ جا سکے۔ فرش پر روزانہ جھاڑو لگایا جائے تاکہ فرش گندے نہ ہوں۔ گھر کے گندے پانی کے نکاس کا اچھا انتظام کرنا چاہیے۔ غسل خانے اور بیت الخلا کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ عورتوں کے وقت کا ایک بڑا حصہ کھانا پکانے میں صرف ہوتا ہے اور سارے گھر کی خوراک بھی یہیں تیار ہوتی ہے اس لیے باورچی خانے کی صفائی کریں، اور خاص طورپراسے دھوئیں اور گرمی کے نکاس کا۔

غذا: کھانے کے لیے وقت کی پابندی بہت ضروری ہے۔ غذا عمر اور موسم کی مناسبت اوراپنی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔ غذا کا صاف اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

حکیم محمد رشید